اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفی بادشاہ کے چچا اور ابتدائے تأسیس بحرین سے اس ملک کے وزیر اعظم اور بحرین کے حقیقی بادشاہ خلیفہ بہ سلمان آل خلیفہ بحرین کے نہتے عوام کو کچلنے کے لئے وسیع اقدامات، نہتے عوام کے قتل، اسلامی شریعت اور عربی روایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خواتین پر وحشیانہ حملوں اور انہیں قید اور اغوا کرنے، اسکولوں سے بچیوں کو اغوا کرنے، اسپتالوں سے زخمیوں کو اغوا کرنے، مساجد منہدم کرنے اور حسینیات ویران کرنے، مجالس عزاداری پر حملے کرنے اور قیدیوں کو تشدد کرکے قتل کرنے کی رپورٹ دینے اور آل سعودی آقاؤں کے دست و پا چھومنے کے لئے ریاض پہنچ گئے ہیں۔
آل خلیفی وزیر اعظم نے عوام کو دبانے اور مقدسات کے انہدام میں خاص طور پر، آل سعودی آقاؤں کے بے تحاشا تعاون کا شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے سعودی عرب کو آل خلیفی حکمرانی کی تزویری گہرائی (Strategic Depth) قرار دیا!۔
یاد رہے کہ آل سعود بحرین کو اپنا ایک صوبہ سمجھتا ہے اور حال ہی میں آل سعود نے خلیجی ریاستوں کو اپنے قلمرو میں ضم کرنے کے لئے خلیجی ریاستوں کا کنفیڈریشن تشکیل دینے کی بھی تجویز دی ہے۔
خلیفہ نے چاپلوسی کی انتہا کرتے ہوئے سعودیوں کے توسط سے منامہ کو عیاشی کا اڈا بنانے، اور اس ملک کو غربت اور فقر و بدبختی میں مبتلا کرنے جیسے حقائق کو نظر انداز کیا اور کہا کہ آل سعود نے بحرین کی ترقی میں مدد کی ہے اور بحرینی عوام کی تحریک کچلنے میں آل خلیفہ خاندان کا ہاتھ بٹایا ہے چنانچہ آل خلیفہ خاندان آل سعود خاندان کا مشکور و ممنون ہے۔
یادرہے کہ بحرینی عوامی انقلاب کا ایک مطالبہ بحرین سے فحاشی کے اڈوں کا خاتمہ بھی تھا اور انقلاب شروع ہوتے ہی بیرون ملک سے آئی ہوئی ہزاروں بدکار عورتوں نے اپنے دلالوں سمیت اس ملک سے فرار ہوکر متحدہ عرب امارات کی بین الاقوامی فحاشی کے اڈوں میں پناہ لی اور انہیں وہیں روزگار مل گیا!!!!!؟؟؟
شیخ خلیفہ نے امید ظاہر کی کہ آل سعود بدستور آل خلیفہ خاندان کی حمایت جار رکھے، اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے سلسلے میں تعاون کرے اور ملک میں انتخابات کے مطالبوں کا خاتمہ کرنے اور عوام کی صدائے حق طلبی کو خاموش کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے اور بحرین میں اکثریت کی حکومت قائم نہ ہونے دے۔
یادرہے کہ بحرین میں اکثریتی آبادی صدیوں سے محکوم ہے اور اقلیتی آبادی بھی آل خلیفہ خاندان کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے جبکہ حکومت ایک ہی خاندان کے ہاتھوں میں ہے اور 42 برس سے بحرین پر مسلط تا حیات وزیر اعظم اس خاندان کا سب سے طاقتور فرد تصور کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ آل سعود نے اسلام دشمن امریکہ کے حکم پر بحرینی عوام کی پرامن تحریک کو کچلنے کے لئے بحرین پر جارحیت کی ہے اور امارات کا آل نہیان خاندان، قطر کا آل ثانی خاندان اور کویت کا آل صباح خاندان بھی اس جارحیت میں شامل ہیں۔
ظلم و جبر کی انتہا ہے لیکن بحرین میں انقلاب جاری ہے اور عوام اپنے مطالبات میں شدت لاچکے ہیں، وہ یوں کہ اگر کبھی بحرین میں بعض جماعتین آئینی بادشاہت کے قیام کی خواہاں تھیں تو اب وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ آل خلیفہ خاندان کو جانا پڑے گا اور اب بحرین والے آئینی بادشاہت کی بجائے جمہوریت چاہتے ہیں اور اس سے کم پر راضی نہیں ہونگے کیونکہ آل خلیفہ اور آل سعود نے بے تحاشا خون بہا کر اور لوگوں کے مقدسات اور عزت و حیثیت کو چلینج کرکے مذاکرات اور مفاہمت کے تمام دروازے بند کردیئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
18 اپریل 2011 - 19:30
News ID: 237503
بحرین میں مذہبی مراسمات و مجالس اور نہتی عوام پر حملوں میں شدت، مساجد و حسینیات کے انہدام میں وسعت، عورتوں اور بچوں کے اغوا اور گھروں پر بموں سے حملوں میں شدت کی رپورٹ دینے کے لئے تا حیات وزیر اعظم خلیفہ بن سلمان اپنے سعودی آقاؤں کی پابوسی کے لئے ریاض پہنچ گئے ہیں۔